بالی وڈ اداکارہ اور بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رہنما ہیما مالنی نے بھی حجاب تنازع میں ہندو انتہا پسندوں کی حمایت کردی۔ بھارتی میڈیا سے گفتگو میں ہیما مالنی نے ریاست کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگائے جانے کو درست فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ اسکول تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہوتے ہیں، یہاں مذہبی معاملات کو لانا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اسکول کا یونیفارم ہوتا ہے جس کی عزت ہر شخص کو کرنی چاہیے، حجاب کرنا ہے تو تعلیمی اداروں سے باہر کریں۔
اس سے قبل بالی وڈ سے کئی اداکار سامنے آئے جنہوں نے ہندو انتہا پسندوں کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی۔ ان اداکاروں میں جاوید اختر، پوجا بھٹ، سوارا بھاسکر اور شبانہ اعظمی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت میں حجاب پر پابندی کا معاملہ اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا جب کرناٹک میں باحجاب طالبہ مسکان کو ہندو انتہا پسندوں نے کالج جاتے ہوئے ہراساں کیا تھا جس کے جواب میں لڑکی نے ڈرے بغیر نعرہ تکبیر بلند کیا اور ان کا مقابلہ کیا۔
نظام کوئی بھی ہو حالات جیسے بھی ہوں اگلی باری پھر نیازی۔سینئر صحافی کا تہلکہ خیز دعویٰ
خود کو عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ بتانیوالی خاتون کے پی ٹی آئی رہنما سے متعلق دعوے
On Karnataka hijab row, BJP MP Hema Malini says, "Schools are for education and religious matters should not be taken there. Every school has a uniform that should be respected. You can wear whatever you want outside the school." pic.twitter.com/06ZKueOzWn
— ANI (@ANI) February 9, 2022