Wednesday May 22, 2024

راؤ انوار نےبیٹوں کی لاشیں واپس کرنےکیلئےغریب ماں کوشرمناک مطالبہ کردیا

اسلام آباد نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے ایک ماں کے دو بیٹوں کو قتل کر کے میتیں دینے کے عوض ایک لاکھ روپے دینے کی شرط رکھ دی،راؤ انوار نے بیٹوں کی لاشوں کی حوالگی کے لئے 50،50ہزار روپے وصول کئے،متاثرہ ماں فریاد لیکر محسود قبائل کےاسلام آباد دھرنے میں پہنچ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق ایس

ایس پی ملیر راؤ انوار پر مختلف قسم کے الزامات عائد ہیں۔
راؤ انوار پر نوجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کا بھی الزام ہے۔راؤ انوار اس وقت مفرور ہے جب کہ پولیس راؤ انوار کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔اسی طرح ایک اور عورت نے بھی راؤ انوار پر بیٹوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔مقامی اخبار کے مطابق راؤ انوار نے بوڑھی ماں کے 2بیٹوں کو قتل کرکے میتیں ایک لاکھ روپے میں دیں۔معمر خاتون انصاف کے لئے آل پختون قومی جرگہ کے اسلام آباد دھرنے میں پہنچ گئیں۔
مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے لمبرو بی بی کا کہنا تھا کہ ان کے دو جوان سالہ بیٹے حیدر علی اور شوکت علی کو مبینہ طور پر راؤ انوار اور اسکی ٹیم نے گرفتار کر کے ماروائے عدالت قتل کردیا۔اور راؤ انوار نے خود اس کے بیٹوں کی لاشوں کی حوالگی کے لئے 50،50ہزار روپے وصول کئے۔دو برس گزر جانے کے باوجود انصاف کے لئے در بدر ہونے والی لمبرو بی بی کا کہنا ہے کہ ان کے چھوٹے بیٹے شوکت علی کو 10جنوری 2018 کو گھر سے گرفتار کیا گیا جب کہ حیدر علی کو 21مارچ 2015کو گھر سے ہی گرفتار کیا

گیا تاہم دونوں کے خلاف کسی تھانے میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
والدہ کے مطابق جب شوکت علی کو اٹھایا گیا تو اس وقت راؤ انوار کے ساتھ اس کی ساری ٹیم موجود تھی۔گرفتاری کے وقت شوکت علی کی موٹر سائیکل اور مزدوروں کی 80ہزار تنخواہ،شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ لے گئے۔اور دونوں بیٹیوں کو الگ الگ جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا۔لمبرو بی بی نے چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور راؤ انوار کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تا کہ اس کی ممتا کو قرار آئے۔

FOLLOW US