Friday April 12, 2024

مارچ 2018ء میں ریٹائر ہونیوالے بلوچستان کے 11سینیٹروں نے دوبارہ امیدوار بننے کی کوششیں شروع کردی

کوئٹہ مارچ 2018ء میں ریٹائر ہونیوالے بلوچستان کے 11سینیٹروں نے دوبارہ امیدوار بننے کی کوشش شروع کردی ہے بلوچستان سے جو سینیٹر ریٹائر ہورہے ہیں ان میں پیپلز پارٹی کے چار سینیٹر ،بی این پی (عوامی )،جمعیت علماء اسلام اور پاکستان مسلم لیگ ق کے دو سینیٹر جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک سینیٹر ریٹائر ہوگا بلوچستان سے جو پیپلز پارٹی کے

4سینیٹر سردار فتح محمد حسنی ،سینیٹر نوابزادہ سیف اللہ مگسی ،سینیٹر محمد یوسف ،سینیٹر روزی خان کاکڑ ،بی این پی (عوامی ) کے مرکزی صدر وسینیٹر میر اسرار اللہ زہری ،سینیٹر نسیمہ احسان ،پاکستان مسلم لیگ ق کے سینیٹر سید الحسن مندوخیل اور محترمہ سینیٹر روبینہ عرفان جبکہ جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ ،سینیٹر مفتی ستار اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر دائود خان اچکزئی شامل ہے بلوچستان صوبائی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کا کوئی رکن صوبائی اسمبلی نہ ہونے کی وجہ سے مارچ میں ہونیوالے سینیٹ کے انتخابات میں انکا کوئی بھی سینیٹر منتخب نہیں ہوسکے گا تاہم ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جو سینیٹر ریٹائر ہورہے ہیں اگر انکو پارٹی نے اجازت دے دی تو وہ سینیٹ کا دوبارہ الیکشن لڑنے کی تیاری کرینگے ۔سینیٹ کے کاغذات نامزدگی 4فروری سے 6فروری تک جمع کرائے جائیں گے کاغذات کی جانچ پڑتال 9فروری تک مکمل کرلی جائے گی بلوچستان سے ریٹائر ہونیوالے 11سینیٹروں نے بلوچستان اور اسلام آباد اور دیگر اپنے رہائش گاہوں سے اپنے سامان باندھنا شروع کردیا ہے اور اپنے ٹیلیفون ،بجلی ،گیس اور رہائش گاہوں کے

بقایاجات بھی ادا کرنے شروع کئے ہیں ۔تین مارچ کو سینیٹ کے الیکشن سے قبل موجودہ سینیٹ اجلاس کا آخری اجلاس بھی منعقد ہوگا جس میں الوداعی ملاقاتیں اور فوٹو سیشن ہوگا بلوچستان سے ریٹائر ہونیوالے 11سینیٹر اپنی 6سالہ مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہورہے ہیں اور اسلام آباد سے خوشگوار یادیں لیکر واپس کوئٹہ آرہے ہیں ۔ریٹائر ہونیوالے نے سینیٹر وں نے کہاہے کہ اگر انکو دوبارہ پارٹی ٹکٹ نہ ملا تو وہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑسکتے ہیں اگر عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوئے ۔

FOLLOW US