Monday July 15, 2024

اسلامی ملک پر بموں کی بارش برسا دی گئی۔۔۔درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات

دمشق(نیوز ایجنسیاں) شام میں سرکاری فورسز کی بمباری کے نتیجے میں چاربچوں سمیت 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ادھرشام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے ایک بیان میں کہاکہ علاقے کو شدید فضائی بم باری اور گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں 4 بچوں سمیت 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔شامی

حکومت نے الغوطہ الشرقیہ پر سیکڑوں میزائل داغے۔ ٹوئیٹر پر جاری تصاویر میں الغوطہ کی فضاں میں آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ادھرشام میں بشار الاسد حکومت کی فوج نے الغوطہ الشرقیہ کے علاقے پر عسکری حملے کے لیے اپنی فورسز اور فوجی ساز وسامان جمع کرنا شروع کر دیا ہے اس سلسلے میں شامی حکومت اور ہیء تحریر الشام تنظیم (سابقہ جبہ النصرہ تنظیم)کے درمیان مذاکرات یاسمجھوتے کی بھی خبریں موصول ہو رہی ہیں، اس کا مقصد تنظیم کے جنگجوں کو نکل کر اِدلب کا رخ کرنے دینا ہے۔الغوطہ الشرقیہ کا علاقہ 2013 سے محصور ہے۔انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کرنے والے آبزرویٹری کے مطابق الغوطہ پر حملے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور اب صرف کارروائی شروع کرنے کا اشارہ ملنے کا انتظار ہے۔اس وقت الغوطہ الشرقیہ میں ہیئہ تحریر الشام کے سیکڑوں جنگجو موجود ہیں۔ آبزرویٹری کے ڈائریکٹر کے مطابق ان جنگجوں کو الغوطہ سے نکالنے کے لیے شامی حکومت اور اپوزیشن کے مسلح گروپوں کے درمیان مذاکرات جار

ی ہیں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے شام کے کئی علاقوں میں اس طرح کے معاہدے سامنے آ چکے ہیں جن کے تحت بشار حکومت کی عسکری جارحیت کے بعد اپوزیشن جنجگوں کو اپنے زیر کنٹرول علاقہ چھوڑ کر نکل جانے کی اجازت دی گئی۔ عام طور پر یہ جنگجو اِدلب صوبے کا رخ کرتے ہیں جس کے زیادہ تر علاقوں پر ہیئہ تحریر الشام کا کنٹرول ہے۔دوسری جانب الغوطہ الشرقیہ میں اپوزیشن کے مضبوط ترین گروپ جیش الاسلامکے ایک نمایاں کمانڈر محمد علوش نے شامی حکومت کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پوری طاقت کے ساتھ اپنے دفاع کے قانونی حق پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ہم نے سیاسی حل کے لیے دروازہ کھولا اور شامیوں کی خون ریزی روکنے کے لیے مذاکرات میں شریک ہوئے۔ تاہم مقابل فریق نے ان معاہدوں اور تمام جنگ بندیوں کی خلاف ورزی کی۔اسی طرح الغوطہ میں دوسرے نمایاں ترین گروپ فیلق الرحمن کے رہ نما وائل علوان نے بھی شامی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کی تردید کی۔دونوں گروپوں کی جانب سے باور کرایا گیا ہے کہ وہ بشار کی فوج کے کسی بھی آئندہ حملے کو پسپا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

FOLLOW US