Friday April 12, 2024

پاکستان کانام گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کامعاملہ۔۔مشیر خزانہ نے آخر کار ایک ایسی حقیقت کا اعتراف کر لیا کہ جان کر کروڑوں پاکستانیوں کی پریشانی کی انتہا نہ رہے گی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقد ہونے والی ایف اے ٹی ایف کانفرنس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالنے کےلئے ایک قرارداد پیش کی گئی تھی۔ جس کے بعد میڈیا پر چہ مگوئیاں ہوتی رہیں۔ کبھی کہا گیا کہ نام شامل نہیں ہوا ۔اور کبھی کہا جا تا رہا کہ نام شامل کر لیا گیا ہے ۔تاہم اس بارے میں باضابطہ طور پر حکومتی

شخصیت کی جانب سے بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ دہشتگردی اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کیلئے دو مہینوں میں جتنا کام کیا گزشتہ دس سالوں میں نہیں ہوا۔ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دنیا ہمارا بیانیہ نہیں مان رہی تو اس میں ہماری دس ، پندرہ سالوں کی غلطیاں شامل ہیں۔ آدھے افغانستان میں پاکستانی کرنسی کو قانونی سمجھا جاتا ہے۔ جمعہ کے روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئےوزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ فیٹف کی جانب سے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ ہوگیا ہے مگر اعلان جون میں ہوگا۔ آئندہ تین ماہ میں ایشیاء پیسفک گروپ (اے پی جی ) کے ممالک کے ساتھ بیٹھ کر ایک پروگرام بنائیں گے ۔ پروگرام باہمی مشاورت سے ہوگا۔ امریکانے تین ملکوں کے ساتھ ملکر پاکستان کے خلاف پرپوزل دیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنا کام مکمل نہیں کیا۔ فیٹف کے اجلاس سے قبل ہم نے بہت سے اقدامات کرلیے تھے۔ اجلا س کے دوران ہم نے کہا کہ

پاکستان نے اقدامات مکمل کرلیے ہیں لہذا پاکستان کے خلاف فیصلہ نہیں کرنا چاہئے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کانام گیرے لسٹ میں شامل کرنا چاہئے۔ میری استدعا تھی کہ تین ماہ کے بعد فیصلہ کریں ۔ سیاسی وجوحات کے باعث فیٹف کے پاکستان کو تین ماہ کا وقت نہیں دیا ۔آئندہ تین ماہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں کی پولیس اور ایف آئی اے کا چےئرمین تعاون قائم کرنا ہے نمبر 2 جب دہشتگرد کو گرفتار کے اجاتا ہے اس پر ٖصرف دہشتگردی کی دفعات لگائی جاتی ہیں مگر اس پر دہشتگردی کی حالی معاونت کی دفعات ہیں نمبر 3 ہماری سٹیٹ بینک کی زیر نگرانی جو دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کے لئے اچھے اقدامات کر رہے ہیں اگرا س میں کو کمی رہتے گی ہے تواس کو دور کہا جائے گا ۔ نمبر 4 صدر پاکستان نے جو اڑڈینس پیش کیا ہے اور اس کو اسمبلی میں پیش کرنا ہے اور منظور کروانا ہے انہوں نے کہا ہے کہ آدھے افغانستان میں پاکستانی پیسے کو قانونی سمجھا جاتا ہے افغانستان کے ساتھ پاکستانی بارڈ 2600 کلو میٹر توبل ہےپاکستان نے دونوں ممالک کی کرنسی کو ادھر ادھر آنے جانے سے روکنا آسان نہیں ہو گا اقوام متحدہ جس تنظیم پر پابندی لگائی ہے پاکستان بھی اس پر پابندی لگاتا ہے اور اس ی فنڈنگ کو بھی روکتا ہے پاکستان نے جتنے اقدامات کرنے ہیں میری نظر میں کافی ہیں۔گزشتہ2 ماہ میں حکومت نے جتنا کام کیا گزشتہ 10 سالوں میں نہیں کیا بھارت اور امریک۹ہ کا گھٹ جوڑ تھا پاکستان کو شرمندہ کرے گا۔ حکومت پاکستان وزارات داخلہ اور خارجہ نے جو اقدامات کرنے تھے وہ کیے اگر کہیں کمی ہو رہی ہے اس پر میں غلطی کو تسلیم کرتا ہوں دنیا ہمارا ابیانیہ نہیں مان رہی تو اس میں ہماری 15, 10 سال کی غلطیاں شامل ہیں ۔

FOLLOW US