Monday July 15, 2024

اسما قتل کیس کا ملزم محمد نبی گرفتار لیکن اسے چہرہ ڈھانپ کر کیوں لایا گیا؟

مردان کی 4 سالہ ننھی اسما کے قاتل کو آج میڈیا کے سامنے پیش کر دیا گیا ۔ آئی جی خیبر پختونخواہ اور آر پی او مردان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیس کے حل ہونے اور ملزمان کی گرفتاری کا اعلان کیا ۔ آر پی او مردان نے 15 سالہ ملزم کو میڈیا کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ ملزم نے اسما کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ کہ آئی

جی کے پی کے اور آر پی او مردان کی پریس کانفرنس میں ملزم کا منہ اور سر ڈھانپ کر اسے پیش کیا گیا جو کسی کو ہضم نہ ہوا۔ سوشل میڈیا پر پریس کانفرنس اور ملزم کی تصاویر گردش کرنے لگیں تو سوشل میڈیا صارفین نے اس بات پر اعتراض کیا کہ ملزم کا چہرہ کیوں نہیں دکھایا گیا؟ ملزم کی منہ پر کپڑا ڈالنے کی تصویر پر سوشل میڈیا صارفین نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے گھناؤنے جرم میں ملوث ملزمان کے سفاک چہروں کو ضرور منظر عام پر لانا چاہئیے تھا۔کے پی کے پولیس کا ملزم کو چہرہ ڈھانپ کر پیش کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے کہ آیا یہ واقعہ اسما کا قاتل ہے یا پھر پولیس نے محض تسلی دینے کے لیے ہی کسی بھی نوجوان کو پکڑ پر چہرہ ڈھانپ کر میڈیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ کیونکہ اس قسم کے کیسز میں ملزم کا چہرہ ڈھانپنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کے پی کے پولیس اس ملزم کی تفصیلات اور تصویر کب تک منظر عام پر لاتی ہے۔

FOLLOW US