اسلام آباد (ویب ڈیسک ) ۔یہ عطیات مختلف شخصیات،اداروں اورگروپوں نے دئیے ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق فنڈ میں 18جولائی کو 4کروڑایک لاکھ ، 19جولائی کو تین کروڑ 32لاکھ 63ہزار اور20 جولائی کو ایک کروڑ 75لاکھ روپے کے عطیات جمع ہوئے ۔ اسی طرح مختلف عوامی اورکمرشل بینکوں کے
ذریعے 17 جولائی کو 6کروڑ 6لاکھ 30ہزار ، 16جولائی کو 3کروڑ 43لاکھ ، 13جولائی کو 2کروڑ 61لاکھ 40ہزار اور12جولائی کو 3کروڑ 2لاکھ روپے کے عطیات اکٹھے کئے گئے ۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق کراچی کی تاجر برادری نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر واضح کردیا ہے کہ تبدیلی آنے کی صورت میں کراچی کے ساتھ کی جانے والی معاشی زیادتیوں اور وسائل میں کٹوتی کا سلسلہ بند کرنا ہوگا، نظام مملکت چلانے کے لیے ٹیکسوں کا بوجھ کراچی کی صنعتوں اور ٹیکس گزاروں سے ہٹا کرملک کے دیگر شہروں کی صنعتوں پر تقسیم کرنا ہوگا۔ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کراچی چیمبر آف کامرس کے عہدے داروں اور بزنس مین گروپ
کی قیادت سے مقامی ہوٹل میں اتوار کو ہونے والی ملاقات اور استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کراچی چیمبر کے صدر مفصر ملک نے کہا کہ کراچی کی تاجر برادری جاننا چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد کراچی کے بارے میں کیا حکمت عملی ہوگی اور تحریک انصاف نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کیا پلاننگ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر کی دعوت کے باوجود ن لیگ کے صدر دو مرتبہ کراچی آنے کے باوجود کراچی چیمبر تشریف نہیں لائے، ماضی کی وفاقی حکومت نے کراچی کو نظر انداز کیا، وفاق کی توجہ ملک کے ایک صوبے اور شہر کی ترقی تک محدود رہی،کراچی کی اہمیت کم کرنے کے لیے مختلف اہم سرکاری دفاتر لاہور منتقل کردیے گئے۔مفصر ملک نے کہا کہ تمام تر سازشوں اور منافقت کے باجود یہ شہر ملکی ریونیو میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ اسحق ڈار نے ایف بی آر کو صوابدیدی اختیار دیے اور ایف بی آر کی توپوں کا رخ ہمیشہ کراچی کی جانب رہتا ہے۔ ن لیگ نے معیشت کی بحالی اور برآمدات میں اضافے کے لیے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں کیا۔تاجر رہنما سراج قاسم تیلی نے کہا کہ عمران خان کی جیت کی ہوا چل رہی ہے۔تمام حکومتوں نے کراچی سے سوتیلی ماں کا سلوک کیا، کراچی والوں کی گردن پتلی ہے اسی کو دباتے ہیں، ہر قانون کا اطلاق کراچی سے شروع ہوتا ہے، ایمنسٹی
اسکیم میں بھی 56 فیصد ٹیکس کراچی سے ملا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی تاجر برادری عمران خان سے پرامید ہے۔تاجر رہنما زبیر موتی والا نے کہا کہ کراچی کی 14 ہزار صنعتیں 1400 میگا واٹ بجلی استعمال کرتی ہیں، بجلی کے استعمال کے لحاظ سے دیگر شہروں اور صوبوں کی ایک لاکھ صنعتوں پر 11 ہزار ارب روپے ٹیکس بنتا ہے تاہم صرف 1800 ارب روپے جمع ہورہے ہیں۔ مردم شماریوں میں کراچی کی آبادی اور شہری حدود کو کم جبکہ لاہور کی حدود میں قصور تک اضافہ کیا گیا۔کراچی چیمبر کے سابق صدر ہارون فاروقی نے کہا کہ اسحق ڈار نے ٹیکس گزاروں کے گلے میں ودہولڈنگ ٹیکس کا طوق ڈال دیا، ایف بی آر کو دکان کی طرح چلایا گیا اور ٹیکس گزاروں کو ٹیکس گزاروں سے لڑوایا گیا۔