Friday April 12, 2024

دادو میں توہم پرستی کی انتہا، پیر گاجی شاہ کی پالتو بلی کا مزار بن گیا

دادو اندرون سندھ کے علاقے دادو میں لوگوں نے توہم پرستی کی انتہا کر دی۔ اندرون سندھ کے علاوہ دادو میں پیر گاجی شاہ کے مزار میں ان کی بلی کا مزار بھی بنادیا گیا جہاں لوگ آ کر دعائیں مانگنے لگے۔ لوگوں نے بلی نے باقاعدہ قبر بنا کرحاضری دینا شروع کر دی۔ بلی کی باقاعدہ قبر پر لوگوں کے دعائیں مانگنے کی بات گاجی شاہ کے عرس پر سامنے آئی۔ یہ عر س

ہر سال 11، 12 اور 13 فروری کو منعقد کیا جاتا ہے۔ جس میں پاکستان بالخصوص بلوچستان، سندھ، پنجاب سے عقیدت کے اظہار کے لئے لوگ جوق در جوق حاضری دینے آتے ہیں۔ گاجی شاہ کی مزار کے گدی نشین نے بتایا کہ پیر گاجی شاہ نے بیرونی قابض قوتوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان دی۔ ان کی میت کو اونٹنی پر لاد کر بھیجا گیا، گاجی شاہ کی اونٹنی کی قبر بھی ان کے مزار کے قریب موجود ہے جس پر سانس بند کر کے زائرین 7 چکر لگاتے ہیں جس سے مبینہ طور پر ان کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ بلی سے متعلق مشہور ہے کہ وہ مرشد گاجی شاہ کی محبوب پالتو بلی تھی اور دلچسپ بات تو یہ کہ اس بلی کی موت کی بھی اپنی ہی ایک کہانی ہے۔ اس بلی نے بھی اپنے روحانی مرشد کے گرد چلتے چلتے اپنے جان دے دی تھی۔ گدی نشین کے مطابق سالانہ عرس میں شرکت کے لیے آنے والے سینکڑوں زائرین پیر گاجی شاہ کی اونٹنی اور بلی کی قبر پر بھی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اوراپنے مرشد سے منسوب ہر چیز سے محبت کرتے ہیں۔ گدی نشین منظور کھوسو نے بتایا کہ کچھ لوگ کم عقلی اور لاعلمی کی وجہ سے بلی کی قبر کو سجدہ کرتے ہیں،اور ہمارے بارہا منع کرنے کے

باوجود باز نہیں آتے۔ انہوں نے بتایا کہ مرشد گاجی شاہ جنوں کے بادشاہ ہیں، ذہنی امراض سے دو چار افراد ہر سال مقامی ساز سرندہ پر موج کر کے تب تک دھمال ڈالتے ہیں جب تک وہ بے ہو ش نہ ہو جائیں، بے ہوش ہو جانے کے دوران انہیں شفا اور جنات سے نجات ملتی ہے۔

FOLLOW US