Monday July 15, 2024

قصور کی ننھی زینب کے قتل کیس کا فیصلہ محفوظ ، 17 فروری کو سنایا جائے گا

قصور میں ننھی زینب سے جنسی زیادتی اور قتل کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ۔ قصور کی ننھی زینب کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والے ملزم عمران کو گرفتار کیا گیا اور کوٹ لکھپت جیل میں ملزم عمران پر فرد جُرم بھی عائد کی گئی جس کے بعد آج اس کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیاگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قصور میں رواں سال کے آغاز میں

ہی ننھی زینب کو اغوا کرنے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ زینب کی لاش 9 جنوری کو کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہوئی جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے زینب کے معاملے پر 10 جنوری کو از خود نوٹس لیا۔ 21 جنوری کو چیف جسٹس نے اس کیس کی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کی جس دوران انہوں نے کیس میں ہوئی پیش رفت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور تفتیشی اداروں کو تحقیقات کرنے کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت دے دی۔ مہلت ملنے کے 48 گھنٹوں بعد ہی پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل کیس میں ملوث ملزم عمران کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جس کا اعلان بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کیا۔ سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کی جانب سے رپورٹ جمع کروانے پر اس کیس کو نمٹا دیا جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کو حکم دیا کہ 7 روز کے اندر ملزم کا ٹرائل ختم کیا جائے۔ ملزم عمران کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد میں پیش کیا گیا۔ 2 فروری کو زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران علی پر کوٹ لکھپت جیل میں

ہی فرد جرم عائد کی گئی۔ کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سجاد احمد نے استغاثہ کے گواہوں نے شہادتیں قلمبند ہونے کے بعد ملزم عمران پر فرد جُرم عائد کی۔ اور پراسیکیوشن کی جانب سے تمام گواہوں کو کل طلب کرلیا۔ تاہم آج زینب قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا جو 17 فروری کو سنایا جائے گا۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا صارفین نے زینب قتل کیس کے مرکزی مجرم عمران کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

FOLLOW US