Monday April 15, 2024

خیبرپختونخواحکومت کا کمال، 24 کروڑ پودے لگائے باقی 76 کروڑ خود ہی اگ آئے مگر کیسے ؟عجب کرپشن کی غضب کہانی،حیرت انگیز انکشافات‎

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایک ارب پودے لگانے کا منصوبہ اپنی نوعیت کا ایک بہترین منصوبہ تھا۔ اگر کے پی کے حکومت کی جانب سے یہ درخت لگا دیے جاتے تو یہاں جنگلات کی بہار آنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی بھی ختم ہو جاتی جو پوری دنیا کا ایک بڑا مسئلہ ہے، اگر تحریک انصاف کی حکومت

اس میں کامیاب ہو جاتی تو یہ تحریک انصاف کا ایک بڑا کارنامہ ہوتالیکن انکشاف ہوا ہے کہ اس منصوبے میں سنگین قسم کی کرپشن اور بدعنوانی کی گئی ہے۔ سرکاری دستاویزات نے تحریک انصاف حکومت کے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ صوبے میں ایک ارب 18 کروڑ پودے لگائے گئے ہیں، ان دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ صرف 20 فیصد یعنی24 کروڑ پودے لگائے گئے۔ اور 75 کروڑ 90 لاکھ پودے وہ ہیں جو قدرتی طور پر خود بخود اُگ آتے ہیں، اس میں کے پی کے گورنمنٹ کا کوئی عمل دخل نہیں، 24 کروڑ پودوں میں سے بھی 15کروڑ 30 لاکھ وہ ہیں جو لوگوں میں مفت تقسیم کیے گئے۔ اس طرح ساڑھے بارہ ارب روپے کے اس پراجیکٹ میں نرسریوں کے انتخاب سے لے کر پودوں کی خریداری، تقسیم اور شجرکاری میں افسوسناک بے قاعدگیاں سامنے آئیں، اس کام کی نگرانی نچلے درجے کا عملہ کرتا رہا جو اپنے فرائض صحیح طریقے سے انجام نہ دے سکا اور اسی وجہ سے 3سو سے زائد اہلکاروں کو کرپشن کے الزامات میں برطرف کر دیا گیا جو بجائے خود منصوبے کی ناکامی کا اعتراف ہے اور منصوبے کی شفافیت پر سوالیہ نشان بھی ہے۔ اس منصوبے کے اخراجات کے حوالے سے اپوزیشن پارٹیوں خصوصاً اے این پی نے سوالات

اٹھائے ہیں اور اے این پی نے نیب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، صوبائی حکومت کی طرف سے جنگلات میں اضافہ کرنے کی یہ اچھی کاوش تھی لیکن نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے ناکام ہو گئی، صوبائی حکومت کو چاہیے کہ اس کی نیب کے ذریعے شفاف تحقیقات کرائے تاکہ پتہ چل سکے کہ غلطی کس کی ہے۔

FOLLOW US