Monday April 15, 2024

لوگوں کو زبردستی ہندو بنانے پر امریکہ نے بھارت کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کرلیا، مودی سرکار کے بھی کان کھڑے ہو گئے،، صاف انکار کر دیا

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت امریکہ کی آشیرباد کے ثمرات تو دونوں ہاتھوں سے سمیٹنا چاہتا ہے لیکن روشن خیالی اورآزادی پسندی کے امریکی وچار ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت کو کچھ زیادہ پسند نہیں آرہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے بھارتی ہتھکنڈے بھی بے نقاب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔بھارت نے مذہبی آزادی سے متعلق

امریکی عالمی کمیشن کے وفد کو ویزا دینے سے تیسری مرتبہ انکار کردیا۔وفد کے رکن تھامس ریس کا کہناہے کہ نئی دہلی عیسائیوں،مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مظالم کو عالمی برادری سے چھپانا چاہتاہے۔مذہبی آزادی سے متعلق امریکی عالمی کمیشن کے رکن نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں سرکاری سرپرستی میں ہندوتا کی مہم چلائی جارہی ہے۔ مذہبی آزادی سے متعلق امریکا کے عالمی کمیشن کے وفد کے رکن تھامس ریس نے امریکی ٹی وی کو بتایا کمیشن کا تین رکنی وفد بھارت میں سیاسی، سماجی رہنماؤں سے ملنا،وہاں کی انسانی حقوق کی صورتحال اور مذہبی آزادی کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔لیکن واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے ویزہ دینے سے انکار کردیا۔ریس نے کہاکہ بھارت میں سرکاری پشت پناہی میں ہندو بنیاد پرست عیسائیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے عبادت گاہوں پر حملے کررہے ہیں۔اور انہیں زبردستی ہندو بننے پر مجبور کررہے ہیں۔ تھامس ریس نے مطالبہ کیاکہ بھارتی وزیراعظم مودی اقلیتوں پر مظالم بند کرائیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اپنے بیان میں بھارتی پالیسی پرسخت ردعمل کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ بھارت عالمی انسانی حقوق کی کنوینشن کی خلاف ورزی نہ کرے اور امریکی کمیشن کے ارکان کو ویزہ دے کر صورتحال کا جائزہ لینے دیا جائیے۔

FOLLOW US