Saturday July 27, 2024

بھارت امریکہ گٹھ جوڑ افغان امن میں رکاوٹ ہے،پاکستانی ماہرین

امریکہ کی جانب سے افغانستان میں بھارتی کردار علاقائی سلامتی کیلئے خطرناک ہے، دونوں کا گٹھ جوڑ پاکستان،چین اور سی پیک کے خلاف ہے،امریکا کے سی پیک سے متعلق خدشات درست نہیں،افغانستان میں طالبان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،افغانستان کے مسئلہ کا حل مذاکرات میں ہے،افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا پڑے گا،واشنگٹن نے پاکستان

کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا،پاک امریکہ طویل تعلقات کبھی اسٹرٹیجک مراسم میں تبدیل نہیں ہوئے ،جوہری پاکستان درست مگر روایتی عسکری قوت بھی ناگزیر ہے،امریکا اور بھارتی جارحیت کا جواب دینا ہوگا ،افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے،کسی پاکستانی رہنما نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے نقصانات سے عالمی براداری کو آگاہ نہیں کیا، عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر امریکہ اثر انداز ہوتا ہے ،پاکستان کو آئی ایم ایف سے مزید قرضوں کیلئے رجوع نہیں کرنا چاہئے،امریکہ پر انحصار ختم کرنا ہوگا، پاکستان کے دفاعی ،سفارتی اور معاشی ماہرین بھارت امریکہ گٹھ جوڑ افغان امن میں رکاوٹ ہے،پاکستانی ماہرین پاکستان کے دفاعی ،سفارتی اور معاشی ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت امریکہ گٹھ جوڑ افغان امن میں رکاوٹ ہے،امریکہ کی جانب سے افغانستان میں بھارتی کردار علاقائی سلامتی کیلئے خطرناک ہے،بھارت امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان اور چین اور سی پیک کے خلاف ہے،امریکا کے سی پیک سے متعلق خدشات درست نہیں،افغانستان میں طالبان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،افغانستان کے مسئلہ کا حل مذاکرات میں ہے،افغان طالبان کو

مذاکرات کی میز پر لانا پڑے گا،واشنگٹن نے پاکستان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا،پاک امریکہ طویل تعلقات کبھی اسٹرٹیجک مراسم میں تبدیل نہیں ہوئے ،جوہری پاکستان درست مگر روایتی عسکری قوت بھی ناگزیر ہے،امریکا اور بھارتی جارحیت کا جواب دینا ہوگا ،افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے،کسی پاکستانی رہنما نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے نقصانات سے عالمی براداری کو آگاہ نہیں کیا، عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر امریکہ اثر انداز ہوتا ہے ،پاکستان کو آئی ایم ایف سے مزید قرضوں کیلئے رجوع نہیں کرنا چاہئے،امریکہ پر انحصار ختم کرنا ہوگا۔ جمعرات کو ان خیالات کا اظہارلیفٹینٹ جنرل ر ظہیر الاسلام ،امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جہانگیر اشرف قاضی،سابق سیکریٹری دفاع لیفیٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی اورسابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے اسلام آ باد میں- —’امریکہ کی جنوبی ایشیا پالیسی اور پاکستان کا جواب‘ کے

عنوان پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیفٹینٹ جنرل ر ظہیر الاسلام نے کہا کہ بھارت امریکہ گٹھ جوڑ افغان امن میں رکاوٹ ہے۔
امریکہ کی جانب سے افغانستان میں بھارتی کردار علاقائی سلامتی کیلئے خطرناک ہے۔بھارت امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان اور چین کے خلاف ہے۔بھارت امریکہ گٹھ جوڑ سی پیک کیلئے بھی خطرناک ہے۔افغانستان میں طالبان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔افغانستان کے مسئلہ کا حل مذاکرات میں ہے۔افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہی پڑے گا۔افغانستان میں امن جنگ سے نہیں لایا جا سکتا۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جہانگیر اشرف قاضی نے کہاکہ واشنگٹن نے پاکستان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا۔پاک امریکہ طویل تعلقات کبھی اسٹرٹیجک مراسم میں تبدیل نہیں ہوئے۔پاکستان اور چین کے تعلقات پاک امریکہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونا چاہئے۔امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہونگے۔خطے میں جنگ

کے خطرات کم کرنا ہونگے۔بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا جنگ کو ٹالنے کے مترادف ہے۔ جوہری پاکستان درست مگر روایتی عسکری قوت بھی ناگزیر ہے۔بھارت امریکہ کی گٹھ جوڑ نہیں اس میں افغانستان بھی شامل ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھارت افغانستان اور امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات میں متقاضی ہے۔سابق سیکریٹری دفاع لیفیٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر ایک اہم مسئلہ ہے،کشمیریوں کی معاونت امریکا کے کہنے پر نہیں روک جاسکتی ۔ سی پیک پر پاکستان کو امریکا پر واضح کرنا ہوگا کہ یہ اقتصادی روٹ ہے ۔امریکا کے سی پیک سے متعلق خدشات درست نہیں۔امریکا اور بھارتی جارحیت کا جواب دینا ہوگا ۔بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے دروازہ کھولنا سفارت کاری کے لیے اہم ہے ۔افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔اشرف غنی کی حکومت نمائندہ افغان حکومت نہیں۔غیرملکی افواج کی موجودگی میں

افغان امن عمل خواب ہی ہوگا ۔ مذاکرات ہی امن کا باعث بن سکتے ہیں۔سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہاکہ پاکستان کو دہشت گردی سے 103 ارب ڈالرسے زائد کا نقصان ہوا۔امریکہ سے کولیشن اسپورٹ فنڈ کی مد میں ساڑھے 14 ارب ڈالر ملے۔کسی پاکستانی رہنما نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے نقصانات سے عالمی براداری کو آگاہ نہیں کیا۔عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر امریکی اثر انداز ہوتے ہیں ۔پاکستان کو آئی ایم ایف سے مزید قرضے کیلئے عالمی بینک رجوع نہیں کرنا چاہئے۔امریکی پالیسی پاکستان کیلئے 2005 سے تبدیل ہورہی تھی۔امریکی معاونت کے نعم البدل موجود ہیں۔امریکہ پر انحصار ختم کرنا ہوگا۔

FOLLOW US