Monday July 15, 2024

شہید کیپٹن مبین کی بیٹی کا ان کی یاد میں لکھا خط،سوشل میڈیا صارفین آبدیدہ

لاہور شہید کیپٹن مبین کی بیٹی کے خط نے سب کو رلا دیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں ایک سال پہلے کیپٹن مبین دہشت گردی کے ایک واقعے میں شہید ہو گئے تھے۔کیپٹن مبین کی بیٹی نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے ان کے نام ایک خط لکھا۔جس نے ہر پڑھنے والے کو رلا دیا۔ شہید کیپٹن مبین کی بیٹی حبا مبین لکھتی ہیں کہ میں یہ

بہت بھاری دل کے ساتھ لکھ رہی ہو۔جانتی ہوں یہ لکھنے سے نہ تو ہمارے لئے آسانیاں ہوں گی۔اور نہ درد کم ہو گا۔آپ کو گئے ایک سال ہو گیا ہے۔گھر میں سب ٹھیک ہے طہہ بڑا ہو رہا ہے۔اور دن بدن آپ کی طرح ہوتا جا رہا ہے۔وہ آپ کی طرح بات کرتا ہے اور اس میں ہمیں آپ نظر آتے ہیں۔وہ سمجھتا ہے آپ کام پر گئے ہیں۔دادی ٹوٹ چکی ہیں اور مجھے اب امید بھی نہیں ہے کہ وہ بہتر ہوں۔آپ ان کے اکلوتے بیٹے تھے اور وہ ہر وقت آپ کی باتیں کرتی ہیں۔اور کمرے میں آپ کی لگی بڑی تصویر کو دیکھتی رہتی ہیں۔امی بھی اندر سے بکھر چکی ہیں لیکن ہمیں نہیں بتاتی میں جانتی ہو ں رات میں آپ کو یاد کر کے بہت روتی ہیں۔لیکن ہمیں نہیں بتاتی۔ابھی تک یقین نہیں آتا کہ آپ ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔لیکن پھر بھی میں بہت خوش ہوں کہ آپ نے ملٹری اکیڈمی میں اٹھائے حلف پر پورا اترے۔اور شہادت کے درجے پر فائض ہوئے۔گو کہ میں اس بات پر دکھی ہوں کہ میرا باپ مجھ سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گیا لیکن اس بات کی خوشی ہے کہ آپ کے شہادت کے نظرانے نے بہت سے بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیا۔ایک دن جب یہ ملک بہتر ملک بنے گا تو مجھے اس بات پر فخر ہو گا کہ میری

باپنے اس ملک کے لئے قربانی دی اور اس کا حصہ اس ملک میں شامل ہے۔شہید کیپٹن مبین کی بیٹی کے اس خط کو جس نے بھی پڑھا اس کی آنکھیں نم ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ا صارفین نے قوم کی اس بہادر بیٹی کے والد کیپٹن مبین شہید کی خدمات کو سراہا۔اور ان کی بیٹی کی بہادری کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔سوشل میڈیا پر وائرل یہخطآپ بھی پڑھیں: یاد رہے کہ لاہور بم دھماکے میں شہید ہونے والے ڈی آئی جی ٹریفک ریٹائرڈ کیپٹن مبین احمد کا تعلق کوئٹہ سے تھا اور ابتدائی تعلیم کوئٹہ میں ٹیکنیکل سکول سےحاصل کی اور 2012ء میں ایس ایس پی آپریشن بن کر کوئٹہ میں تعینات ہوئے اس کے بعد ایس ایس پی انویسٹی گیشن رہے اور بعد میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے 3سال مدت پوری کرنے کے بعد ان کا تبادلہ لاہور ہوگیا جہاں پر وہ ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کی ذمہ داری نبھارہے تھے کہ بم دھماکے میں شہید ہوگئے۔

FOLLOW US