Friday April 12, 2024

پاکستان سے دشمنی زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔۔ بھارت میں مودی سرکار کو بڑی سیاسی طاقتوں کی سخت مخالفت کاسامنا، بڑا مطالبہ کر ڈا

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ہندو انتہا پسند حکومت کی پاکستان مخالف پالیسیوں کو خود بھارت میں ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بائیں بازو والی سیاسی جماعتوں نے پاکستان سے مذاکرات پر ڈیڈ لاک کی حکومتی پالیسی کو مایوس کن قرار دے دیا ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستان سے ”کوئی بات چیت نہیں”کی پالیسی

پرمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جلد مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔رپورٹ کے مطابق سی پی آئی کی جانب سے عوامی جمہوریت کے معاملے پر دیئے گئے بیان میں کہا گیا کہ نریندر مودی کی حکومت پاکستان مخالف پالیسی کے باعث ایک بند گلی میں آکھڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پر تمام سخت رویوں اور قوم پرستانہ طریقوں کے باوجود نریندر مودی کی حکومت کو یہ اندازہ ہوگیا کہ جموں اور کشمیر کے معاملے کے سیاسی حل کے لیے پاکستان کیساتھ مذاکرات ایک اہم معاملہ ہیں۔سی پی آئی ایم کے سابق سربراہ پراکاش کارت کی جانب سے بھی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی بحالی کے لیے کام کرے اور پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرت کو بھی بحال کرے۔سی پی آئی ایم کی جانب سے یاد دلایا گیا کہ اگست 2015 میں پاک ٗبھارت مذاکرات کو منسوخ کردیا گیا تھا اور بھارتی حکومت کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا تھا کہ جب تک مبینہ سرحد پار دہشتگردی نہیں روکی جاتی مذاکرات نہیں ہوں گے، جس کے بعد ستمبر 2016 میں بھارت کی جانب سے مبینہ سرحد پار حملوں کے جواب میں لائن آف کنٹرول کے پار سرجیکل اسٹرائک کا دعویٰ بھی کیا گیا اور بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کی جانب س

ے دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ چند سالوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی صرف یہی جواب بنتا تھا تاہم سرجیکل اسٹرائیک کے اس دعوے کے بعد جموں اینڈ کشمیر میں بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر اس پار سے شیلنگ اور فائرنگ میں اضافہ ہوا اور نومبر 2003 کے بعد سے سال 2017 میں سب سے زیادہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ریکارڈ کی گئیں۔پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ اس شیلنگ اور آرٹلر فائرنگ کے نتیجے میں دونوں جانب عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ بھارت کی جانب ہزاروں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور اڑی سیکٹر میں 22 فروری سے 2 ہزار گاؤں کے لوگوں نے اڑی ٹاؤن میں پناہ لی جبکہ وہاں اسکول بند ہوچکے ہیں اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ سرجیکل اسٹرائیک کے باجود سرحد پار عسکریت پسندوں کی جانب سے آرمی اور بی ایس ایف کے کیمپوں پر حملے جاری ہیں اور حال ہی میں جموں میں سنجوان فوجی کیمپ اور سری نگر میں سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے یک جہتی سوچ کہ تمام مظاہرین اور علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے پاکستان سے متاثر ہیں، انہیں جموں اینڈ کشمیر میں سیاسی بات چیت کے لیے کوئی قدم اٹھانے سے روکتی ہیں اور یہ سوچ خالص سیکیورٹی اور عسکریت پسندی پر مبنی ہے، جس سے وادی کے حالات مزید خراب ہوں گے۔

FOLLOW US