Monday July 15, 2024

عاصمہ رانی قتل اوراسما زیادتی کیس پر چیف جسٹس کے از خود نوٹس کی سماعت

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی ترجمان فواد چوہدری کو فوری طلب کر لیا کے پی کے پولیس اپنی کارکردگی سے ثابت کرت کہ اس پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے۔ چیف جسٹس عاصمہ رانی قتل اوراسما زیادتی کیس پر چیف جسٹس کے از خود نوٹس کی سماعتm عاصمہ رانی قتل اور اسما زیادتی کیس پر چیف جسٹس آف پاکستان کے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ۔ سماعت

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ تفصیلات کے مطابق عاصمہ رانی قتل کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے فوری طور پر پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری کو طلب کرلیا چیف جسٹس نت کہا کہ آج چاہے رات کے 8 بھی بج جائیں فواد چوہدری کو آج ہی عدالت میں پیش ہونا ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے بیانات دئے کہ خیبرپختونخواہ کی پولیس مثالی ہے ، دوسروں کی چیز بری اور اپنی اچھی ہی لگتی ہے ۔ فواد چوہدری کو آنے دیں ان کی موجودگی میں کیس سنیں گے تاکہ پتہ چلے کہ خیبر پختونخواہ کی پولیس کتنی مثالی ہے۔ آج کی سماعت میں آئی جی کے پی کے نے عاصمہ رانی قتل کیس سے متعلق جواب جمع کروایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کے پی کے کی پولیس فورس کتنی اچھی ہے ؟ کیوں نہ از خود نوٹس واپس لے لیں ، انہوں نے آئی جی کے پی کے سے کہا کہ ہم نے از خود نوٹس آپ کے لیے نہیں لیا ، از خود نوٹس شہریوں کے لیے لیا جاتا ہے ۔
پولیس کی ذمہ داری سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ بچی اسما کے ساتھ اتنا بڑا واقعہ ہو گیا لیکن

تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے آئی جی کے پی کے سے ننھی اسما زیادتی کیس میں آئندہ دو ہفتے میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ پنجاب فرانزک کو کہا جائے کہ فوری طور پر رپورٹ کے پی کے پولیس کو فراہم کریں۔عاصمہ رانی قتل کیس میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملزم کو کتنے عرصہ میں دبئی سے واپس لایا جا سکتا ہے ؟ ملزم کے تو ریڈ وارنٹ جاری کرنے پڑیں گے ، کیا ہم ریڈ وارنٹ جاری کر سکتے ہیں؟ عدالت میں موجود ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ملزم سعودی عرب فرار ہوا ہے یا دبئی ، ایسا لگتا ہے ملزم نے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ قتل کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم کے پاس دبئی کا اقامہ ہے ۔ کیا ملزم شاہ زیب اور مجاہد کا موبائل ڈیٹا حاصل کیا گیا؟ پی ٹی آئی کے ضلعی صدر کو کیوں شامل تفتیش نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ کے پی کے پولیس اپنی کرکردگی سے ثابت کرے کہ اس پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں

ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا متاثرہ خاندان کا کوئی فرد عدالت میں موجود ہے ؟ جس پر کے پی کے پولیس نے کہا کہ اگر آپ پیش کرنے کا کہیں تو ہم انہیں پیش کر سکتے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پیش نہیں کرنا ہم خود انہیں عزت سے بلائیں گے۔ چیف جسٹس نے ضلعی صدر آفتاب عالم کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔ جس کے بعد ننھی اسما کیس کی مزید سماعت کو اکیس فروری تک ملتوی کر دیا گیا ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عاصمہ رانی قتل کیس کی سماعت آج ہی ہو گی۔

FOLLOW US