Monday June 24, 2024

خیبر پختونخوا حکومت نے بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین کو تین ماہ قید اور جرمانے کی سزا دینے کی منظوری دیدی

خیبر پختونخوا حکومت نے بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین کو تین ماہ قید اور جرمانے کی سزاء دینے کی منظوری دیدی ہے صوبائی حکومت نے پولیوویکنیشن ایکٹ 2017میں ترامیم کر دی ہے رواں سال صوبے اور قبائلی علاقہ جات میں کوئی پولیو کیس رونماء نہیں ہوا ہے تاہم کوہاٹ اور شاہین مسلم ٹائون میں پولیو وائرس کی موجودگی کے باعث

تین روزہ پولیو مہم بھی شروع ہو گئی ہیں پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں والدین کی جانب سے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائیں جا رہے ہیں جس کی روک تھام کے لئے صوبائی حکومت نے قانون سازی کر دی ہے اور پولیو سمیت دیگر ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کو تین ماہ قید اور جرمانے کی سزاء بھی دی جائیگی صوبائی حکومت کی جانب سے ایکٹ میں ترامیم کرنے کے بعد سزاء اور جرمانہ کرنے اور ایف آئی آر کرنے کے اختیارات بھی پولیس کو دے دیئے ہیں صوبائی حکومت کی جانب سے پولیو کے مرض پر قابو پانے اور صوبے کو پولیو فری صوبہ قرار دینے کے لئے اقدامات شروع کئے ہیں

FOLLOW US