Thursday February 27, 2025

’’ شہید کر آسان ہے لیکن اسلام کو ختم کر نا نا ممکن ‘‘ نیوزی لینڈ کی مساجد میں فائرنگ۔۔ ملائیشین وزیراعظم نے اہم مطالبہ کر دیا

’’ شہید کر آسان ہے لیکن اسلام کو ختم کر نا نا ممکن ‘‘ نیوزی لینڈ کی مساجد میں فائرنگ۔۔ ملائیشین وزیراعظم نے اہم مطالبہ کر دیا

آج نیوزی لینڈ میں دو مساجد میںفائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں 49 نمازی شہید ہو گئے۔پاکستان سمیت کئی ممالک نے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کرائسٹ چرچ مساجد حملوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے ملائشین وزیراعظم مہا تیر محمد نے کہا ہے کہ امید ہے نیوزی لینڈ

کی حکومت دہشتگردوں کو گرفتار کر کے کاروائی کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ملائشین حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔اس سے قبل ترک صدر طیب اردگان نے بھی نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ اللہ متاثرین پر رحم کرے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔صدر طیب اردگان نے افسوناک واقعے پر مسلم دنیا سے تعزیت کی اور ٹویٹر پیغام میں کہا کہ میں اپنے ملک کی طرف سے پوری مسلم امہ اور نیوزی لینڈمیں ہونے والے حملے سے متاثرہ لوگوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ترک صدر نے اسے اسلام فوبیا کا نتیجہ قرار دے دیا۔خیال رہے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 49افرادجاں بحق اور60سے زائد زخمی ہوگئے ، ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ۔ تین منٹ تک مسجد میںفائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور مرکزی دروازے سے باہر نکلا،جہاں اس نے گاڑیوں پر بھیفائرنگ شروع کر دی۔حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا تھا،جو ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو

اسٹریمنگ کرتارہا۔فائرنگ کی اطلاع ملتے ہیپولیس نے علاقہ اپنے گھیرے میں لے لیا اور مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہ آور وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال تھی۔