پاکستان ایک ہفتے کی مار : جناب پاکستان کا تو آپ کی 7 نسلیں بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ، البتہ آپ.مودی جی کی گیدڑ بھبکیوں کا پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل نے زبردست جواب دے دیا


لاہور (ویب ڈیسک) چھ زیادہ دن نہیں گزرے انڈین آرمی چیف کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ انڈین آرمی کو جب بھی سویلین حکومت حکم دے گی، پاکستانی کشمیر پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھاشن ایک سے زیادہ بار مختلف فورموں پر دہرایا نامور کالم نگار اور سابق فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور اس کے فوراً بعد وزیراعظم بھارت کا یہ بیان بھی آیا کہ اگر ہم چاہیں تو سارے پاکستان کو صرف سات سے دس دنوں کے اندر اندر زیرِ تصرف لا سکتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں شری نریندر مودی اپنے آرمی چیف کے بیان کو سپورٹ کر رہے تھے کہ حملہ کیا جا سکتا ہے اور پاکستان صرف سات دنوں کی ”مار“ ہے…… یہ بیان بھی اسی طرح کا ہے جو چند ماہ پہلے امریکی صدر نے سعودی عرب کے بارے میں دیا تھا کہ ”ہم اگر چاہیں تو سعودی عرب پر ایک ہفتے کے اندر اندر قبضہ کر سکتے ہیں“…… مجھے امریکی صدر کے بیان کی صداقت میں تو کوئی شک نظر نہیں آتا لیکن انڈین وزیراعظم کی کامن سینس پر ضرور شک ہے۔ سعودی عرب تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے لیکن اس دولت کا جو مصرف عربوں نے گزشتہ تقریباً ایک صدی میں کیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی ہر چیز مغرب سے خرید کردہ ہے۔ ان کا سارا سویلین اور عسکری انفراسٹرکچر مغربی ممالک کا عطا کردہ ہے۔ ان کی افواج کے 100فیصد ہتھیار اور گولہ بارود دساور سے آتا ہے لیکن جس عرب فوج نے اسے استعمال کرنا ہے وہ مغربی ممالک سے نہیں آئی، عربوں کی اپنی ہے اور عربوں کو اپنے دفاع کی جو فکر ہے اس کا ایک طائرانہ جائزہ بھی لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عرب رینک اینڈ فائل دساور سے درآمد کردہ اسلحہ جات کو دیکھ تو سکتی ہے اور شائد پکڑ بھی سکتی ہے

لیکن اسے ہینڈل کرنا یا استعمال کرنا عرب فوج کے بس میں نہیں۔ لہٰذا اگر امریکی صدر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سعودی عرب پر صرف ایک ہفتے میں قبضہ کیا جا سکتا ہے تو صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ برحق ہے۔ امریکی عسکری قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت بساطِ عالم پر اگر امریکی فوجی قوت ٹاپ پر ہے تو اس کے بعد نمبر2سے لے کر نمبر6 تک جو عالمی افواج آتی ہیں ان سب کی قوت کو اکٹھا کیا جائے تو امریکی فوجی قوت تب بھی ٹاپ پر رہے گی۔لیکن بھارت کی مسلح افواج کی سویلین اور عسکری قیادت اگر پاکستان کو ایک ہفتے کی ”مار“ تصور کرتی ہے تو اس قیادت کی عقل کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ کسی پاکستانی کو اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ انڈیا اور پاکستان کا ملٹری بیلنس کم از کم تین اور ایک کا بیلنس ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بیلنس وہی ہے جو غزوۂ بدر میں کافروں اور مسلمانوں کے مابین تھا۔ کفار کی تعداد اور ان کا سلاحِ جنگ جو اس تعداد کو دستیاب تھا اس کا تناسب 1000اور 313 تھا!…… اور مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کا زریں زور جب وہ جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر چاردانگ عالم پر چھا گئے تھے تو ان کی عسکری قوت کا تناسب ہمیشہ کم از کم تین اور ایک کا ہی تھا۔جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں قمری ماہ (جمادی الثانی) کی 13تاریخ ہے اور سال 1441ہجری ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ غزوۂ بدر کو 1440 ہجری برس بیت چکے ہیں۔ ان 14صدیوں میں مسلمانوں نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔.دنیا کے بہت سے حصوں پر مسلسل 800برس تک حکمرانی کی ہے اور ان کی غلامی اور محکومی کا عرصہ بھی کم و بیش 500برس سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف انڈیاہے جس کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ان کا کوئی سورما اپنی سرحد سے باہر نکل کر کسی بھی دوسرے خطہ ء ارض کا فاتح یا حاکم نہیں رہا۔ 712ء میں محمد بن قاسم سے لے کر 1857ء تک ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت رہی اور جب ان پر زوال آیا تو انگریزوں نے سات سمندر پار سے آکر ہندوستان پر قبضہ کر لیا……چنانچہ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ انڈیا کی سویلین اور عسکری قیادت آج یہ دعویٰ کیسے کر سکتی ہے کہ پاکستان پر ایک ہفتے کے اندر اندر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ انڈو پاک ملٹری بیلنس پر نگاہ ڈالیں تو دونوں ممالک کی افواج کی نفری اور ان کا اسلحہ تعداد کے حساب سے تین اور ایک کا ہے یعنی انڈیا کے پاس اگر تین سپاہی ہیں تو پاکستان کے پاس ایک ضرور ہے اور اگر انڈیا کے پاس تین بندوقیں ہیں تو پاکستان کے پاس ایک ضرور ہے۔ دونوں فریقوں کی افواج جدید اسلحہ پر تربیت یافتہ ہیں اور دونوں جنگ آزمودہ ہیں، لہٰذا میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ انڈین آرمی چیف اور انڈین وزیراعظم کس حساب میں پاکستان کو صرف ایک ہفتے کی ”مار“ قرار دیتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق آج کل لندن میں ایک ورکشاپ ہو رہی ہے جس کا اہتمام ”انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز“ (IISS) نے کیا ہے اور جس میں پاکستان کے کئی فوجی اور سویلین ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔(ان میں جنرل خالد قدوائی، جنرل عامر ریاض، پروفیسر حسن عسکری، بریگیڈیئر ندیم سالک اور ایک سابق سفیر علی سرور نقوی شامل ہیں) یہ ورکشاپ جس موضوع پر منعقد کی جا رہی ہے وہ ”ساؤتھ ایشیا میں سٹرٹیجک استحکام، جوہری اسلحہ جات اور ان کا کنٹرول“ ہے۔ جنرل (ر) خالد قدوائی کئی برس تک سٹرٹیجک پلان ڈویژن (SPD) کے ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں۔ اور اس حوالے سے ان کو پاکستان کے جوہری اثاثوں، ان کی تعداد اور ان کی تاثیر کا پورا پورا علم ہے۔ انہوں نے اگلے روز اس ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا اگر پاکستان کی جوہری اہلیت کے سلسلے میں کسی شک و شبہ کا شکار ہے تو اس کو یہ وہم دل و دماغ سے نکال دینا چاہیے۔ انہوں نے بڑے واشگاف الفاظ میں کہا: ”پاکستان پر اگر جنگ مسلط کی گئی تو وہ اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت سے غافل نہیں اور بوقتِ ضرورت اپنے جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے“……اس ورکشاپ میں ساؤتھ ایشیا (برصغیر) کے دوسرے ممالک بھی شرکت کر رہے ہیں جن میں انڈیا بھی ہے۔جنرل قدوائی کے اس بیان کے جواب میں کسی بھارتی جنرل کا تبصرہ منظر عام پر نہیں آیا۔ یہ ورکشاپ ویسے بھی چونکہ ایک انتہائی خفیہ (Secret) موضوع پر ہے اس لئے اس میں ہونے والی تقاریر،

گفتگو اور بحث و مباحثے کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ البتہ جنرل قدوائی کے اس بیان کو انٹرنیشنل میڈیا کے لئے اوپن کر دیا گیا ہے جس کا حوالہ میں نے اوپر دیا ہے۔ جنرل صاحب نے مزید یہ بھی کہا: ”اگر پاکستان، انڈیا کی جوہری اہلیت کو مدِ نظر رکھ کر اس کا توڑ نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس خطے (ساؤتھ ایشیاء) کا سٹرٹیجک استحکام خطرے میں جا پڑے گا اور پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف جوہری بلکہ غیر جوہری (روائتی)ہتھیاروں کے تناظر میں بھی یہ توازن برقرار رکھے“۔اس ورکشاپ میں انڈیا نے بھی اپنے مندوبین بھیجے ہیں جن کی اطلاع تادمِ تحریر کسی فارن میڈیا پر نہیں آئی۔ ویسے بھی اس ورکشاپ کا موضوع چونکہ خفیہ رکھا گیا ہے۔ اس لئے صرف پاکستانی جنرل ہی کا نقطہ ء نظر منظر عام پر آیا ہے اور بھارتی جواب کا دنیا کو انتظار ہے۔ شائد وہ اس ورکشاپ کے اختتام پر جاری کیا جائے۔ بند کمرے میں جو اجلاس ہو گا اور جو بریفنگ دی جائے گی اس کو ظاہر نہیں کیا گیا اور میرا خیال ہے کہ اس کا ظاہر نہ کیا جانا ہی بہتر ہے۔……واقفانِ حال جانتے ہیں کہ گزشتہ برس انڈیا نے 26فروری کو ایل او سی (LOC) عبور کرکے جو فضائی حملہ بالاکوٹ پر کیا تھا، وہ کس کی ایماء پر کیا تھا اور وہ دھمکی جس کا ذکر اس کالم کے آغاز میں کیا گیا ہے وہ بھی کس بیرونی طاقت کی ایماء پر دی گئی ہے…… امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کو جو انہوں نے حال ہی میں سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دیا ہے کہ اس سال کے اواخر تک افغانستان سے امریکی ٹروپس واپس بلا لئے جائیں گے تو ایسے میں اگر انڈین آرمی چیف اور انڈین وزیراعظم کے بیان کو ملا کر پڑھیں تو لندن میں اس ورکشاپ کے انعقاد کی ضرورت اور اہمیت واضح تر ہو کر سامنے آ جاتی ہے …… پاکستان نے جنرل قدوائی کے منہ سے جو بیان کہلوایا ہے وہ بھارتی قیادت کی بڑھکوں کے جواب میں بڑا بروقت اور مسکت ہے۔(ش س م)



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
سرحد پر پاک فوج اور بھارتی فوج کے درمیان گھمسان کی لڑائی، پاک فوج کا جوان شہید
آج کی بڑی بریکنگ نیوز: لاہور ہائیکورٹ نے واہگہ بارڈر کیس کا فیصلہ سنا دیا
پاکستان کا فضا سے زمین اور سمندر پر مار کرنیوالے رعد 2میزائل کا کامیاب تجربہ
پولیو مہم کے دوران زور دار دھماکہ
بریکنگ نیوز : دہشتگردوں کا ایک اور کاری وار.پاکستان کے اہم ترین شہر میں بم دھماکہ۔۔۔ بڑے جانی نقصان کی اطلاعات
بریکنگ نیوز! پاکستان کے خدشات درست ثابت ہوئے، بھارتی فوج کا سرحد کے مختلف سیکٹرز پر حملہ

سپورٹس
حیران کن خبر: پی ایس ایل میں حصہ لینے والا وہ کھلاڑی جس کے لیے وزیراعظم عمران خان نے خصوصی تحفہ بھجوا دیا
عمر اکمل کا کیریئر تباہ ہوگیا، پی سی بی کی جانب سے عائد کردہ پابندی کی اصل وجہ سامنے آگئی
بریکنگ نیوز: بھارت کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کی میزبانی کرے گا یا نہیں ؟ خبر آگئی
پی ایس ایل کے انعقاد سے قبل بڑی بریکنگ نیوز: آپ کسی قسم کی کرکٹ نہیں کھیل سکتے.مشہور ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانیوالا کھلاڑی پابندی کا شکار ہو گیا
سرپرائز : پی ایس ایل کا پاکستان میں انعقاد کس شخص کی وجہ سے ممکن ہوا ؟ نام آپ کو حیران کر ڈالے گا
پی ایس ایل 5کیلئے پنجابی میں کمنٹری کروانے کیلئے بڑی آواز بلند ہوگئی

Copyright © 2020 DailyQaim. All Rights Reserved | Privacy Policy