Wednesday May 22, 2024

قاتل مچھلی نے بحر روم کا رخ کر لیا،کلر فش سے خارج ہونے والا زہر اپنی تاثیر میں “سائنائیڈ گیس” سے 1250 گنا زیادہ ہوتا ہے

لندن(نیو زڈیسک)قاتل مچھلی نے بحر روم کا رخ کر لیا،کلر فش سے خارج ہونے والا زہر اپنی تاثیر میں “سائنائیڈ گیس” سے 1250 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابقآئندہ موسم سرما میں یہ مچھلی بحر روم میں نمودار ہو گی۔ بحیرہ روم سے 8 عرب ممالک کے ساحل ملتے ہیں، ان ممالک میں 22.5 کروڑ سے زیادہ افراد بستے ہیں اور ہر سال

کروڑوںسیاح ان ممالک کا دورہ کرتے ہیں۔قاتل مچھلی کی زیادہ سے زیادہ لمبائی 50 سینٹی میٹر ہوتی ہے اور اس کا اصلی ٹھکانہ بحر ہند اور بحر الکاہل ہے۔ بحر روم میں پہلی مرتبہ یہ 2014 میں اٹلی میں نمودار ہوئی۔ اس کے ایک برس بعد مالٹا اور کروئیشیا میں دیکھی گئی اورپھر 2016 میں یونان کے جزیرے کریٹ میں ظاہر ہوئی۔ محققین کی توجہ حاصل کرنے کے بعد قاتل مچھلی کے بارے میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ مصر اور اسرائیل میں بعض افراد کی ہلاکت کا سبب بنی۔ برطانوی اخبار ٹائمز کے مطابق اس کو چھونے والا سنگین پیچیدگیوں کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، اِلا یہ کہ پکڑنے والا یہ جانتا ہو کہ اسے اپنا ہاتھ کہاں رکھنا ہے۔قاتل مچھلی کے زہر اور خطرے کے سبب مصر میں اس کا شکار ، فروخت اور بازاروں میں لانا ممنوع ہے۔اس وقت قاتل مچھلی بڑی تعداد میں نہر سوئز پہنچ کر مچھلیوں کے پسندیدہ دسترخوان کا رخ کر رہی ہے جہاں یورپی ممالک میں پناہ کے طالب درانداز ڈوب جانے کے بعد قاتل مچھلی کی خوراک بن جاتے ہیں۔ترکی میں اس مچھلی کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں جس کا وزن بعض مرتبہ 5 کلو گرام تک پہنچ

جاتا ہے۔حکام نے ساحلی شہروں کی آبادی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ننگے ہاتھوں سے اسے نہ چھوئیں بلکہ پلاسٹک کے برتن کے ذریعے پانی سے نکالیں اور پھر کسی گہرے گڑھے میں دفن کر دیں۔یورپی یونین نے بحر روم میںtoadfish (قاتل مچھلی) کو پھیلنے سے روکنے کے لیے قریبا 3 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی رقم خرچ کی ہے۔ اس سلسلے میں فی کلو مچھلی کےعوض 4 ڈالر کی رقم ادا کی جا رہی ہے تا کہ مچھیروں کی اس کے شکار کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے اور سمندر اس مچھلی اور اس کی آفت سے محفوظ رہے۔اس مچھلی کو 1789 میں جرمن سائنس داںJohann Friedrich Gmelin نے دریافت کیا تھا۔ جوہان 1804 میں 56 برس کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اس نے اس مچھلی کو سائنسی اصطلاح کےطور پرLagocephalus Sceleratus کا نام دیا تھا۔ تاہم عالمی سطح پر یہ مچھلیsilver-cheeked toadfish کے انگریزی نام سے جانی جاتی ہے کیوں کہ اس کا رنگ چاندی جیسا ہوتا ہے۔

FOLLOW US