Wednesday May 22, 2024

سکول کی لڑکیاں اور لڑکے مل کر فحش ویڈیوز دیکھتے ،،اور آپس میں ہی جنسی عمل شروع کر دیتے تھے،ا ن کی خفیہ ویڈیوز بن جاتیں اور پھر ان کی مائیں اور بہنیں بھی بلیک میل ہوتی رہیں۔۔جانتے ہیں یہ شرمناک کام پنجاب کے کس شہر میں ہوتا رہا

اوکاڑہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اوکاڑہ میں لڑکوں اور لڑکیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے والا پرائیویٹ سکول کا مالک طلبا کے علاوہ ان کی مائوں اور بہنوں کوبھی بلیک میل کرتا رہا ۔ ایک قومی روزنامے نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ الحافظ اسلامک پبلک سکول اینڈ اکیڈمی کے نام سے مہروک کلاں نامی گائوں میں حافظ محمد یوسف نے پرائیویٹ سکول کھول رکھا تھا

جس کے آفس کو وہ ڈرائنگ روم کے طور پر استعمال کرتا رہا ۔ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کو آفس میں بہانے سے بلا کر ان کے سامنے فحش اور غیر اخلاقی ویڈیوز چلا دیتا ۔ اس کے بعد وہ ان کوآپس میں جنسی تعلق قائم کرنے پر آمادہ کرتا اور خفیہ طریقے سے ان کی ویڈیو بنالیتا ۔ جس کے بعد وہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو ویڈیوز سے بلیک میل کرکے ان سے جنسی زیادتی کرتا۔ اس کے بعد وہ انھی طلبا اور طالبات کی مائوں او ر بہنوں کو بلواتااور ان کو وہ ویڈیو کلپس دکھاکر بلیک میل کرتا اور ان سے بھی جنسی زیادتی کرتا رہا۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے 50سے زائد ویڈیو کلپس برآمد ہوئے ہیں۔ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ ملزم پچھلے دس سال سے یہ مکروہ دھندہ کر رہا ہے۔

FOLLOW US