Wednesday May 22, 2024

میں نے زیادتی اور قتل نہیں کیا۔۔۔۔زینب قتل کا ملزم صاف مکر گیا۔ تفتیشی ٹیم بڑی مشکل میں پھنس گئی کیونکہ صرف ڈی این اے۔۔قومی اخبار نے خوفناک انکشاف کر ڈالا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور کی سات سالہ بچی کے ملز م عمران علی کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم سے مبینہ طور پر انکار سے تفتیشی ٹیم کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک موقر قومی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164کے تحت کسی بھی ملزم کا جوڈیشنل مجسٹریٹ کے سامنے اقبالی بیان ریکارڈ کرانالازمی ہو تا ہے۔ اور یہی ریکارڈ کسی ملزم کو کسی مقدمے میں سزا دلوانے کےلئے قانونی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم قصور کے پولیس کے علاوہ ملزم کے ڈی این اے کے علاوہ کوئی بھی شہادت موجود نہیں۔جس کی بنا پر فرد جرم عائد

کی جا سکے۔پولیس کے سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ملزم عمران علی کا قتل و زیادتی انفرادی فعل تھا ۔ملزم عمران علی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وہ خود بھی کئی بار زیادتی کا شکار ہوتا رہا ہے ،ملزم کرمینل ذہن کا مالک ہے یہ درندہ اپنی ہوس کے لئے چھوٹی بچیوں کا انتخاب کرتا تھا لیکن ملزم کا تاحال کسی گینگ یا مافیا کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا

FOLLOW US