Wednesday May 22, 2024

پانامہ اور بہاماس لیکس کے بعد اب دبئی لیکس کا انکشاف

اسلام آباد پانامہ اور بہاماس لیکس کے بعد اب دبئی لیکس بھی سامنے آ گئی ہیں جن میں ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں کہ دبئی میں 7 ہزار پاکستانیوں کی 11 سو ارب روپے کی جائیدادیں موجود ہیں۔ ان لیکس میں انکشاف ہوا کہ 7 ہزار پاکستانیوں میں سے 95 فیصد افراد نے پاکستان میں اپنے ٹیکس گوشواروں میں ان جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں بتایا، فیڈرل

بورڈ آف ریونیو اور اسٹیٹ بنک کے پاس بھی یہ پیسہ دبئی جانے سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ کے اینکر شاہ زیب خانزادہ کی خصوصی تحقیق کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ دبئی میں جائیدادیں بنانے والوں میں سیاست دان، اداکار، وکلاء، ڈاکٹر، بیوروکریٹس، کاروباری شخصیات اور بینکرز بھی شامل ہیں۔نجی ٹی وی چینل کو دستیاب دستاویزات کے مطابق گذشتہ کچھ سالوں میں 11 سو ارب روپے سے زائد رقم خاموشی سے متعلقہ اداروں کے علم میں لائے بغیر پاکستان سے دبئی منتقل کردی گئی ، اس طرح سے پیسوں کی بیرون ملک منتقلی غیر قانونی اور مشکوک ہے۔دستاویزات کے مطابق تقریباً 7 ہزار پاکستانیوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دبئی میں جائیدادیں خریدیں، جن میں سیاست دان، اداکار، وکلا، ڈاکٹرز، بیوروکریٹس، کاروباری حضرات اور بینکرز کے علاوہ چند میڈیا مالکان، ریٹائرڈ جرنیلز اور ریٹائرڈ ججز بھی شامل ہیں۔ پروگرام اینکر کی تحقیقات کے مطابق 2002ء سے اب تک 5 ہزار پاکستانیوں نے دبئی میں اپنے نام سے جائیدادیں خریدیں جبکہ 2 ہزار پاکستانیوں نے اپنے فرنٹ مین کے نام پر یہ جائیدادیں لیں۔تحقیقات کے مطابق اس مجموعی تعداد میں سے تقریباََ 780 پاکستانی دہری شہریت رکھتے ہیں یا پھر وہ پاکستان سے باہر مقیم ہیں جبکہ باقی 6 ہزار سے زائد پاکستان میں ہی رہتے ہیں۔تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ پاکستانیوں نے تقریباََ 967 ولاز یا رہائشی عمارتیں گرینز کے علاقے میں خریدیں، پاکستانیوں کے 75 قیمتی ترین فلیٹس ایمریٹس ہلز، 165 جائیدادیں ڈسکوری گارڈنز میں، 167 فلیٹس جمیرا آئی لینڈ، 123 گھر جمیرا پارک، 245 فلیٹس جمیرا ولیج، 10 جائیدادیں پام ڈیرا، 160 پام جبل علی، 25 جائیدادیں پام جمیرا شور لائن، 234 جائیدادیں انٹرنیشنل سٹی اور 230جائیدادیں سلیکون ویلی میں ہیں۔نجی ٹی وی چینل کو دستیاب دستاویزات کے مطابق دبئی کی ان جائیدادوں کی مالیت کم از کم 10 لاکھ درہم سے شروع ہوکر ڈیڑھ کروڑ درہم تک ہیں، جن کی مالیت 3 کروڑ پاکستانی روپے سے لے کر 45 کروڑ روپے تک بنتی ہے۔

FOLLOW US