Monday June 24, 2024

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور آئین سازی پارلیمنٹ نے کرنی ہے

اسلام آباد (نیو زڈیسک )چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے بڑے مگرمچھوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے ٗ خدا کے واسطے انصاف کی فراہمی کیلئے جو کرسکتے ہیں کر گزریں، اگر عدلیہ نے کارکردگی نہ دکھائی تو ریاست لڑکھڑا جائے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور آئین سازی پارلیمنٹ نے کرنی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ

 

کل کیا قانون آئیگا ہمیں اس کا انتظار نہیں کرنا ٗہمیں موجودہ حالات اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس ملک میں عدلیہ سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے سرکاری اہلکار ہیں لیکن کیا ہم اس کا حق ادا کر رہے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ احتساب عدالت اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ججز بہت اہمیت کے حامل ہیں اور انسداد دہشت گردی عدالتوں کیلئے تگڑے بندے چاہئیں ٗعدلیہ میں جلد فیصلوں کی پالیسی نافذ کردی گئی۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ ہائی کورٹ کا جج ماہانہ 9 لاکھ روپے اور روزانہ کی 40 ہزار روپے تنخواہ لیتا ہے، سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے، تو کیا یہ ججوں کا فرض نہیں ہے کہ وہ روزانہ اتنے روپے کا کام بھی کریں۔

FOLLOW US