Monday April 15, 2024

وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کاعہدہ مفلوج،جوڈیشل کمیشن کااختیاربھی سلب کرلیا،نوازشریف

کراچی پاکستان مسلم لیگ ن کے صدراور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کاعہدہ مفلوج ،جوڈیشل کمیشن کااختیاربھی لے لیا، ریاست کاایک ستون دوسرے ستون پرکوڑے برسائے توکیسے کام ہوگا، عدلیہ کی توہین ہے توکیاایک فردکی عزت نہیں ہوتی؟ وکلاء کمیشن پاناما ، عمران اور جہانگیرترین کیس کاجائزہ لے،تینوں

کوایک ترازومیں تولاگیا،عدلیہ نے منتخب نمائندوں کیلئے انصاف کے منافی رویہ اختیارکیا،جبکہ آمروں کو آئین شکنی کاجوازفراہم کیا،بہت سارے چینلزبھی حکم امتناعی پرچل رہے ہیں۔عمران خان کے فیصلے میں بھی سارانزلہ نوازشریف پرگرادیا۔انہوں نے آج یہاں کراچی میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یاسین آزاد نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیارکرلی ہے۔بڑے وکلاء کی پارٹی میں شمولیت اثاثہ ثابت ہوگی۔انہوں نے کہاکہ مہذب اور جمہوری معاشرے میں وکلاء کے کردار کواہمیت کی نظرسے دیکھاجاتاہے۔وکالت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے شاعرمشرق علامہ اقبال نے پاکستان کاتصور پیش کیا۔قائداعظم نے علامہ اقبال کے خواب کوپوراکیا۔خواب سے تعبیرتک کاسفرہماری تاریخ کاسنہری باب ہے۔پاکستان کے وکلاء نے جمہوری سفرکیلئے شاندارکرداراداکیا۔میں نے بچپن سے آج تک دیکھا کہ وکلای آمریت کیخلاف وکلاء ہراول دستے میں رہے۔وکلاء نے مشرف کیخلاف بھی بھرپورکرداراداکیا۔وکلاء نے عدلیہ بحالی کی تحریک میں شاندارکردار اداکیا۔میں بھی اس تحریک کاحصہ ہوں۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ ہمارا مقصد اس وقت چندججز کی بحالی نہیں

تھی بلکہ ہمارا مقصد ڈکٹیٹرکوحق نہ دیناتھاکہ وہ آئین کوپامال کرے ۔ہمارااصول یہ تھاکہ ججزبغیردباؤ کے فیصلے کریں گے۔ہم عدلیہ بحالی تحریک میں کامیا ب ہوگئے۔ججز اپنے عہدوں پربیٹھ گئے لیکن پاکستان کے عوام کووہ انصاف فراہم نہ کرسکے ۔جس کے عوام مستحق تھے۔آج مقدمات کی بھاری تعداد کئی کئی سال گزرنے کے باوجود عوام انصاف کیلئے ٹھوکریں کھاتی تھک گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال عدالتوں میں 18لاکھ 59ہزار886مقدمات زیرالتوا تھے۔سپریم کورٹ میں نومبر38ہزار500سے زائدمقدمات زیرالتواء تھے۔میں یہ بتانے سے قاصرہوں کہ یہ مقدمات کتنے سالوں سے انصاف کے منتظرہیں۔وحید نامی شخص نے 1956ء میں ایک پلاٹ نیلامی میں خریدا۔اس نے عدالت کے دروازے پردستخط دی۔اس کامقدمہ چلتے چلتے 2007ء میں سپریم کورٹ میں پہنچ گیا۔بھی فیصلہ نہ ہوسکا۔انہوں نے کہاکہ میں جب کہتاہوں کہ عدلیہ بحالی کے بعد اب عدل بحالی کی تحریک چلائی جائے گی اس کامقصد یہی ہے۔کہ لوگوں کوذہنی اذیت سے بچایاجائے۔انہوں نے کہاکہ ہماری عدلیہ نے منتخب نمائندوں کیلئے سخت اور انصاف کے منافی رویہ اختیارکیا۔جبکہ ڈکٹیٹر اور آمروں کی آئین شکنی کونہ صرف جوازفراہم کیاگیامگرآمروں

کوچیرپھاڑکی اجازت بھی دی گئی۔ارشاد حسن نے مشرف کواختیاردیاکہ آئین کے ساتھ جومرضی کریں۔نوازشریف نے کہاکہ وکلاء برادری کوجائزہ لیناہوگا کہ صوابدید ی کادائرہ جب غیرمحدودحد تک پھیل جائے توانصاف کومتاثرکرتاہے۔مقننہ ،انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان وہ تعلق ہے جس کاتقاضا آئین کرتاہے؟ میں یہ سوال اپنے ذاتی تجربے کی بنیادپراٹھارہاہوں۔انہوں نے کہاکہ آج وزیراعظم کاعہدہ مفلوج ہوچکاہے۔انتظامیاں بھی مفلوج ہوگئی ہے۔وزیراعظم کسی اہم معاملے پرجوڈیشل کمیشن بنائے یہ اختیاربھی لے لیاگیاہے۔جب ایک ریاست کاستون دوسرے ستون کے ہاتھ پاؤن باندھ دے اور کوڑے برسائے توکیسے کام ہوگا۔انہوں نے کہاکہ آج پارلیمنٹ کاایک بنایاہواقانون عدلیہ کے سامنے پڑاہے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے کہاکہ ہم وزیراعظم کوبھی طلب کرسکتے ہیں۔وزیراعظم کویہ بھی پتاہوناچاہیے کہ اڈیالہ جیل میں بڑی جگہ ہے۔یہ میری نہیں بلکہ وزیراعظم کے منصب کی توہین ہے۔میں چیف جسٹس کوخط لکھا لیکن جواب دیناتودرکناررسید دینابھی گوارہ نہ سمجھا۔عمران خان کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے ایک جج نے میرے خلاف ساتھ صفحات لکھ

دیے۔وہ صادق اور امین ٹھہرے لیکن سارانزلہ نوازشریف پرگرادیاگیا۔عدلیہ کوفیصلے دینے کااختیارہے لیکن دوسروں کی توہین کرنے کااختیاربھی حاصل ہے؟ عدلیہ کی توہین ہے توایک فردکی عزت نہیں ہوتی؟ انہوں نے اورنج لائن ٹرین کے منصوبے کواپریل 2016ء میں روکااور اپریل 2017ء میں سماعت مکمل ہوئی لیکن فیصلہ محفوظ کرکے 8مہینے بعد سنایاگیا۔اس دوران شہریوں کوجوسہولت میسرہونی تھی اور اس دوارن منصوبے کی لاگت میں کتنااضافہ ہوا،اس کااندازہ ہے؟ حال ہی میں ایک اینکرکی جانب سے اسکینڈل سامنے آیا۔پیمرانے جب بھی ایکشن لیاتوعدالتی حکم امتناعی آڑے آگیا۔بہت سارے چینلزبھی حکم امتناعی پرچل رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاناما کیس فیصلے کاآغاز ایک فضول اور بے کارپٹیشن سے ہوا۔پھریکدم یہ فضول پٹیشن معتبر ہوگئی۔اس کیلئے پانچ ہیرے تلاش کیے گئے۔واٹس ایپ کال کس نے کی؟ میں ایک ایسا ریفرنس بھگت رہاہوں ۔جونیب نے نہیں بلکہ خود سپریم کورٹ نے دیے ہیں۔پھرمیرے سرپرایک جج بٹھاکرتلوارلٹکا دی گئی کی وہ چھ مہینوں میں فیصلہ سنائے۔انہوں نے کہاکہ وکلاء کوایک ایسا کمیشن تشکیل دیناہوگاتومولوی تمیزالدین سے لیکرآج تک کے مقدمات کاجائزہ لے اور کوتاہیوں کودورکیاجائے۔پاناما کیس ، عمران خان کیس اور

جہانگیرترین کیس کاتقابلی جائزہ لیکرقوم کوبتائے کہ کیاتینوں کوایک ہی ترازومیں تولاگیاہے؟ ایک عدالت ،ایک قانون کے ہوتے ہوئے تین مختلف پیمانے اپنائے گئے؟ انہوں نے کہاکہ اس سے خلق خدا کوعلم ہوسکے گاکہ عدل سے کیاسلوک کیاجارہاہے۔ججزکی تعیناتی اور دیگرامورکاجائزہ اور دوسرے ممالک کے نظام کوبھی دیکھناچاہیے۔عدلیہ کی غیرجانبداری، انصاف پروری ہی اس کی عزت کویقینی بناسکتی ہے۔اگرعدالتی فیصلوں پرانگلیاں اٹھنے لگیں ،اگرقسمیں اور کہانیاں بیان کرناپڑیں توجان لیناچاہیے کہ ان سے کوئی بھول ہوئی ہے۔پھریہ بھول چوک عدل کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

FOLLOW US