Monday June 24, 2024

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کریش کر گئیں، لیکن حکومت نے پٹرول 1 روپیہ بھی سستا نہ کیا

اسلام آباد : فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کریش کر گئیں، لیکن حکومت نے پٹرول 1 روپیہ بھی سستا نہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کے حوالے سے وفاقی حکومت کے فیصلے پر ردعمل دیا ہے۔ جمعہ کی شب کو پریس کانفرنس میں فواد چوہدری نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کریش کر گئیں، ہمارے دور میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 112 ڈالرز تھی، جو اب 65 ڈالرز کی سطح پر آ چکی، لیکن حکومت نے پٹرول 1 روپیہ بھی سستا نہ کیا۔

واضح رہے کہ عوام بڑے ریلیف سے محروم رہ گئی، عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے باوجود حکومت کا 2 پٹرولیم مصنوعات سستی نہ کرنے کا فیصلہ۔ اوگرا کی جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز دی گئی تھی۔ اوگرا نے پٹرول 10 سے 12 اور ڈیزل 10 سے 15 روپے فی لیٹر سستا کرنے کی تجویز دی۔ اوگرا نے دوسری تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے قیمتیں برقرار بھی رکھی جا سکتی ہیں۔ سمری موصول ہونے کے بعد وزیر خزانہ نے 15 اپریل تک پٹرول اور ڈیزل سستا نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کا تیل فی لیٹر 10، 10 روپے سستا کر دیا گیا۔ جبکہ ڈیزل کی 298 روپے اور پٹرول کی 272 روپے کی قیمتیں بھی اگلے 15 ایام کیلئے برقرار رہیں گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا۔ یہاں یہ واضح رہے کہ قبل ازیں آئل مارکیٹنگ کمپنیز کی جانب سے تخمینہ لگایا گیا تھا کہ ڈیزل کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر کمی ممکن ہے، اسی طرح پیٹرول کی قیمت 4 سے 5 روپے فی لیٹر تک کم ہو سکتی ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اتار چڑھاؤ آرہا ہے، اس لیے پاکستان میں یکم اپریل سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جاسکتی ہیں۔

انڈسٹری ذرائع نے یہ بھی کہا تھا کہ شاید حکومت قیمتوں میں کسی بھی قسم کا ردوبدل نہ کرے۔دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پیٹرول پر مجوزہ سبسڈی کی ابتدائی تجویز مسترد کر دی، آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل اور 800 سی سی سے کم گاڑیوں کے لیے سستے پیٹرول کی اسکیم پر شدید اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے مکمل پلان طلب کیا ہے، عالمی مالیاتی ادارے نے سوالات اٹھائے ہیں کہ اس اسکیم کے لیے کتنی سبسڈی درکار ہوگی؟ وہ کہاں سے آئے گی اور اس کے کتنے کنزیومر ہوں گے؟ اسکیم میں کتنا نقصان ہوگا؟۔ رپورٹ میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل رابطہ ہوا، اس دوران آئی ایم ایف نے پٹرول پر سبسڈی کا نظرثانی شدہ پلان تیار کرنے پر زور دیتے ہوئے غریب طبقے کو زیادہ مؤثر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کی ہدایت کی ہے۔ اس حوالے سے وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ پیٹرول کی سبسڈی مکمل طور پر ڈیزائن نہیں ہوئی اس پر کام ہورہا ہے، اس پر مکمل شفاف نظام کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف غریب طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈی پر زور دے ریا ہے، پیٹرول پر سبسڈی ڈیزائن کرکے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا۔

FOLLOW US